April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bahaibluebonnet.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

یں بچوں کی موت کا قرض صرف اسی طرح چکایا جا سکتا ہے۔ ہم سب پر ان کی موت کا قرض ہے۔ اردگان نے اسرائیل کو غزہ میں عبادتگاہوں اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور امدادی کارکنان کو ہلاک کرنے پر بھی پر نشانہ بنایا۔

Turkish President Recep Tayyip Erdogan. Photo: INN

ترکی صدر رجیب طیب اردگان نے ایک مرتبہ پھر آزادانہ فلسطینی ریاست کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی راستہ ہے جس سے فلسطینی بچوں کی موت کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انکارا میں سفارتکاروں سے افطار کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر فلسطینی بچوں کی موت کا قرض ہے جو صرف آزادانہ فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ہی اتارا جا سکتا ہے۔ ترکی صدر نے مزید کہا کہ ترکی اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کرے گا جیسا کہ اس نے اب تک کیا ہے اور وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اسرائیلی لیڈران کو غزہ کے معصوم بچوں کے قتل کا جواب دینا ہوگا: رجب طیب اردگان
انہوں نےمزید کہا کہ وہ ہمیں قاتل کو قاتل کہنے سے نہیں روک سکتے۔نسل کشی کے سچ کو چھپانے کے بجائے اسرائیلی لیڈران کو غزہ میں معصوم بچوں کے قتل کا جواب دینا چاہئے۔
اردگان نے کہا کہ رمضان میں بھی ترکی غزہ میں سرکاری اداروں، انسٹی ٹیوشن، فاؤنڈیشن اور اسوسی ایشن کے ذریعے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی ممکن بنانے کی ہر کوشش کرے گا۔

جنگ بندی کے مطالبے کیلئے جاری احتجاج۔ تصویر: پی ٹی آئی
عبادتگاہوں اور تعلیمی اداروں کوتباہ کرنےاورامدادی کارکنان پر تشویش
انہوں نے سوال قائم کیا کہ غزہ میں کیوں متعدد اسپتالوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ اردگان نے اسرائیلی سے جوابدہی پر زور دیتے ہوئے غزہ میں ۴۰۰؍ امدادی کارکنان کی اور فلسطینی خطے میں عبادتگاہوں اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

غذا کیلئے قطار میں کھڑے فلسطینی۔ تصویر: پی ٹی آئی
اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ممالک کو بھی دھمکی دے رہا ہے
انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت کے عارضی اقدامات اسرائیل کو نہیں روک سکتے اور جوابدہی اور انصاف کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں اور وہ بے شرمی سے غزہ میں مسلسل جنگی جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل یہاں تک اتنا بے باک ہو گیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ممالک کو بھی دھمکی دے رہا ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل دہائیوں سے توجہ کا مرکز رہا ہے اور اسے قتل عام، زمین پر قبضہ کرنےاور چوری کیلئے سزاؤں سے محفوظ رکھاگیا ہے جس کا نتیجہ اب فلسطینی بھگت رہے ہیں۔
ترکی صدر نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں پر اعتماد کھونے کی قیمت ہم سب کیلئے آنے والے برس میں میں مزید دہشت گردی اور عدم استحکام کی صورت میں ظاہرہو سکتی ہے۔ وہ لوگ جو اسرائیل کو بلاشرائط سفارتی امداد اور ہتھیار فراہم کر رہےہیںان کی دوطرفہ پالیسی نے اسرائیل اور اس کے وزیر اعظم بجامن نتین یاہو کی مزید ہمت افزائی کی ہے۔

واضح رہے کہ ۷؍ اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے محصورغزہ میں حملے شروع کئے تھے جس کے نتیجے میں اب تک ۳۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ۷۰؍ ہزار سے زائد شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت نے غزہ کی آدھی آبادی کو گھریلو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے جبکہ خطے کی آدھی سے زائد آبادی غذا، ادویات اور صاف پانی سے محروم ہو گئی ہے۔ غزہ میں انسانی امداد کی رسائی اسرائیل کے سرحدیں بند کرنے کے سبب مشکل ہو گئی ہے جس کے سبب اب تک ۲۰؍ سےزائد فلسطینی بھکمری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ میں ہلاک شدہ بچوں کی تعداددل دہلا دینے والی ہے: فلپ لازارینی 
یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہاکہ غزہ میں گزشتہ ۴؍ ماہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد دل دہلا دینے والی ہے۔ غزہ میں گزشتہ ۴؍ ماہ میں جتنےبچے ہلاک ہوئے ہیں اتنے بچے دنیابھر میںگزشتہ ۴؍ سال میں جنگ کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ بچوں پر جنگ ہے۔ یہ ان کے بچپن اور ان کے مستقبل پر جنگ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *