April 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bahaibluebonnet.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

ترکی کی مذمت
ترکی نے ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے گزشتہ سال کے آخر میں عالمی لیڈروں کے ایک گروپ کو بتایا کہ ’’بین الاقوامی دہشت گردی کے ساتھ اسلام کے خلاف دشمنی میں اضافہ اور پھیلاؤ تشویشناک ہے۔ ان منفی پیشرفتوں نے ہمیں ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ ہمیں مزید یکجہتی، ایک دوسرے کو سمجھنے اور رواداری کی ضرورت ہے۔ ‘‘ ترکی نے اقوام متحدہ، یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم، ‏ اسلامی تعاون کی تنظیم اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے یورپ کی کونسل جیسے بین الاقوامی فورمز پر مختلف لائحہ عمل کی قیادت کی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال جولائی میں اقوام متحدہ کی طرف سے منظور کی گئی ایک قرارداد میں قرآن کریم کے نسخے کو جلانے کی مذمت کی گئی تھی اور اس طرح کی کارروائیوں کو ’’مذہبی منافرت‘‘ سے تعبیر کیا گیا تھا۔ ۲۵؍جولائی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک الگ قرارداد میں مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی تمام کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 
بائراکلی‏کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اسلامو فوبیا کے مسئلے کو اجاگر کرنے والے ترکی کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی گئی۔ پاکستان اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ عالمی اتحاد قائم کرنا جو اس مسئلے پر یکساں طور پر آواز اٹھا رہے ہیں، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 
وہ کہتے ہیں کہ فی الحال بہت سے یورپی ممالک اس قسم کے نفرت انگیز جرائم کا اندراج بھی نہیں کرتے ہیں۔ وہ اس معاملے پر سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کثیرالجہتی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے سے عالمی سطح پر بیداری آئے گی۔ 
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے دی برج انیشی ایٹو کے سینئر محقق فرید حفیظ کا کہنا ہے کہ فرانس جیسے ممالک پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالا جانا چاہئے جنہوں نے اسلامو فوبیا کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے، فرید حفیظ کہتے ہیں کہ اس نے مسلم معاشرہ کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کی اجازت دی ہے جو مغرب میں اسلامو فوبیا سے نبرد آزماہے۔ ‏
کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ایک تصور کے طور پر نہ صرف تشدد کو اپنا رہا ہے بلکہ اس نے کئی یورپی قومی ریاستوں کو حجاب پہننے سے لے کر مساجد تک، مذہب اسلام کومجرم قرار دینے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ (بین الاقوامی) دباؤ کے بغیر، یورپی حکومتوں کو اپنی روایتی سیاست کو ترک کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ملے گی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *