April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bahaibluebonnet.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
جنیوا:اے پی ایچ سی رہنما الطاف وانی کی زیر قیادت کشمیریوں کا یو این ایچ آر سی اجلاس کے دوران مظاہرہ

کشمیری وفد نے اے پی ایچ سی کے سینئر رہنما الطاف حسین وانی کی سربراہی میں جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں بھارت کے غیر قانونی قبضے اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے اس مظاہرے میں وفد کے نمائندوں کے علاوہ انسانی حقوق کے نمائندوں، صحافیوں اور قانونی ماہرین نے شرکت کی اور خطاب کیا، جن میں مرزا آصف جرال، سردار امجد یوسف، سید فیض نقشبندی، حسن بنا، پرویز احمد شاہ، فہیم کیانی، زبیر جرال اور دیگر شامل تھے۔

کشمیر میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مقررین نے مقبوضہ خطے میں خونریزی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

کشمیری مندوبین، جو اس وقت یو این ایچ آر سی کے 55ویں اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا میں ہیں، نے کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکومت کے جابرانہ اقدامات کا موثر نوٹس لیں جو مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور اسے اقلیت میں بدلناچاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگست 2019 میں بھارت کی نسل پرست حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرنے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔

خطہ میں خونریزی اور تشدد کو روکنے کےلیے اعلیٰ ترین ادارے کی فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی حکومت کو یکطرفہ طور پر کشمیر پر کیے گئے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ جموں و کشمیر کے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری کےلیے اپنے وعدوں کی پابندی کرے اور 5 اگست 2019 کے بعد سے کشمیر پر کیے گئے تمام اقدامات کو منسوخ کرے۔

بھارتی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جبر و استبداد کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی نسل پرست حکومت سیاسی اختلاف کو دبانے اور مقامی آبادی کو بے اختیار کرنے کے لیے نوآبادیاتی دور کے حربے استعمال کر رہی ہے۔

بھارتی حکومت کی کشمیر مخالف پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمینوں پر قبضے جبری بے دخلی اور شہریوں کی جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی اور غیر کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے جیسی پالیسیاں بی جے پی کے آباد کار استعماری منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں جس کا مقصد ریاست کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کئی ایسے قوانین نافذ کیے ہیں جو نہ صرف بیرونی لوگوں کو خطے میں آباد ہونے کے قابل بناتے ہیں بلکہ وہ زمینیں خریدتے اور دیگر مراعات بھی حاصل کرتے ہیں۔

خطے میں پرامن اختلاف رائے پر پابندی کے حوالے سے کشمیری نمائندوں کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام کی جانب سے اختلاف رائے کو بے رحمی سے دبانے سے خطے میں جمہوری اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ “شہری حقوق کے کارکنوں پر پابندیاں، املاک کی ضبطی، مسلح افواج کے ذریعہ شہریوں کو ہراساں کرنا اور ان کی تذلیل ایک معمول بن گیا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ قوانین کا استعمال اور غلط استعمال سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا باعث بنا ہے۔

“انسداد دہشت گردی کے قوانین” کے غلط استعمال پر انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کالے قوانین کی آڑ میں جائز سیاسی آوازوں اور ان تمام لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کر رہی ہے جو کشمیریوں کے خلاف بھارت کی جابرانہ پالیسی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ممتاز انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کی نظربندی دنیا کے لیے ایک چشم کشا نظیر ہے کہ کس طرح بھارت کشمیریوں کو خاموش کرنے کے لیے کالے قوانین کا استعمال کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *